سندھ اسمبلی کے اہم کام درج ذیل بیان کئے جاتے ہیں۔

قوانین بنانا:

یہ کام فطری طور پر مخصوص حدود سے مشروط ہے جس میں شامل ہیں ۔

  • صوبائی اسمبلی جب ملک میں ہنگامی حالت نافذ ہوتو قانون سازی نہیں کر سکتی۔
  • صوبائی اسمبلی وہ قانون نہیں بنا سکتی جوملک کے شہریوں کے بنیادی حقوق متصادم ہوں۔
  • پالیسی کے اصول یا قانون کی حکمران ہر ایک قانون کی بنیاد ہو۔
  • کوئی بھی ایسا قانون ایکٹ نہیں بن سکتا جب تک وہ اسلام کے اصولوں سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔
  • صوبائی اسمبلی ایسے معاملات پر قانون سازی نہیں کر سکتی جو اس کے دائرہ اختیار میں نہ ہو، حالانکہ مشترکہ قانون سازی فہرست میں موجون معاملات پر قانون سازی کرسکتی ہے۔ بحرحال جہاں پارلیمان مشترکہ قانون سازی فہرست میں قانون بنائے اور صوبائی اسمبلی بھی اس پر قانون سازی کرے، صوبائی قانون وفاقی قانون کی حد تک ناگوار اور ختم ہوجائیگا۔
  • بقایا فہرست صوبائی اسمبلی کے پاس ایسے مسئلے پر قانون سازی کرنے کے خصوصی اختیارات ہیں جو وفاقی قانون سازی فہرست اور نہ ہی مشترکہ قانون سازی فہرست میں مخصوص ہو۔ اس فہرست کو بقایا فہرست کہاجاتا ہے ۔ بقایا معاملات خصوصی طور پر صوبائی خود مختیاری میں آتے ہیں ۔ اس چیز کو دھیان میں رکھنا اہم ہے کہ ایک ادارہ دوسرے ادارے کے اختیارات پر حاوی نہ ہو۔

قوم کی رقم کا منتظم

صوبائی مجموعی فنڈ سے خرچ صرف اس وقت ہو سکتا ہے جب اس کا اختیار صوبائی اسمبلی کی جانب سے دیا جائے۔ صوبائی اسمبلی ایگزیکیوٹر پر بذریعہ مالیات کنٹرول نظر رکھتی ہے۔

بجٹوں کی منظوری:

صوبائی اسمبلی کو بحیث میں مطالبات زرکو منظور کرنے، رد کرنے اور مطالبے میں زر کی کمی کا اختیار ہے۔ ایک مرتبہ بجٹ منظور ہوگیا، حکومت کو منظوریوں سے ہٹنے کا اختیار حاصل نہیں۔ اضافی اخراجات کے لئے حکومت کو اسمبلی سے باقاعدہ بنانے کی ضرورت ہوگی۔ آڈیٹر جنرل کی سندھ کے متعلق آڈٹ رپورٹوں کو پبلک اکائونٹس کمیٹی اسمبلی سے مزید جانچ پڑتال کرتی ہے۔

اس کو بھی دھیان میں رکھا جائے کہ صوبائی اسمبلی عوام کی آواز کی نمائیندہ بھی ہے اور حکومت کی پالیسوں، کام اور کارکردگی پر ایک نظر رکھنے والے ادارے کے طور پر کام کرتی ہے۔ اور کابینا مجموعی طور پر اسمبلی کے آگے جوابدہ ہے ۔

عام انتخابات کے بعد اسمبلی اپنی پہلی نشست پر اراکین حلف اٹھاتے ہیں۔  اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر اجلاس کی صدارت کرتے ہیں اگر دونوں حاضر نہ ہوں گورنر اسمبلی اراکین میں سے کسی کو بھی چئیرمین نامزد کرسکتا ہے جو سیشن کی صدارت