گورنر:۔

گورنر کو صوبائی اسمبلی سندھ کو ختم کرنے کا اختیار ہے ، اگر وزیر اعلیٰ کی طرف سے مشورہ دیا گیا ہو۔ صوبائی اسمبلی کی طرف سے پاس کیا گیا بل قانون بن جائے گا۔ جب گورنر ان کو منظور کرے۔ صوبائی انتظامی اختیاری اس پر گورنر کے نام پر عملدرآمد کرائیگی۔ در حقیقت انتظامی اختیاری وزیراعلیٰ اور کابینہ ہی ہوگی۔

اسپیکر:۔

اسپیکر صوبائی اسمبلی سندھ کی طرف سے خفیہ راء شماری کے ذریعے منتخب کیا جاتا ہے ۔ اسپیکر ایوان کے ممبران کے حقوق اور استحقاق کا ایک غیر جانبدار ، نگہبان اور اسمبلی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے ۔ اگرچہ ایک سیاسی پارٹی کی نامزدگی کے طور پر منتخب ہوتا ہے ۔ اسپیکر کا فرض ہوتا ہے کہ اسمبلی کی کاروائی صاف، شفاف اور قانون پر مبنی چلائے گا ایک غیر جانبدار منصف کے طور پر اور کاروائی کی ترتیب کا بندوبست جمہوری دستور کے مطابق ہوگا۔ اسپیکر حکومتی اور حزب اختلاف بئنچز کے درمیان توازن پیدا کرتا ہے ۔

اسپیکر شپ کی روایت:۔

اسپیکرکی آفس مسلسل جمہوری روایات کی ایک مثال ہے ، اسپیکر اسمبلی چیمبر میں ایک عصابردار دربان کے ساتھ داخل ہوتا ہے ، جو اسپیکر آفس کی تعظیم ہے ، جب اسپیکر اسمبلی ھال میں داخل ہوتا ہے تو اراکین عہدے کے لحاظ سے کھڑے ہوتے ہیں ۔

اختیارات اور کام:۔

  • اسپیکر طہ کرتا ہے کہ کون سا رکن ایوان میں مخاطب ہوگا۔ وہاں کوئی طہ شدہ طریقہ کار نہیں ہے ، ایک رکن جو بولنا چاہتا ہو، وہ اسپیکر کی توجہ حاصل کریگا یعنی اجازت چاہیگا، اسپیکر مختلف پارٹیوں کے اراکین کو اپنا مئوقف بیان کرنے کی اجازت رہتا ہے۔ بعد میں اسپیکر انہیں تسلیم کرتا ہے جن کو زیر بحث موضوع پر خاص معلومات حاصل ہو۔
  • اسپیکر قواعد کی تشریح اور استعمال کرتا ہے جس کو ایوان کے ‘‘اسٹینڈنگ آرڈرز’’ کہا جاتا ہے ، اسپیکر کا فیصلہ حتمی ہے اس پر تنقیدی تحریک پیش کرنے سے چئلنج کیا جاسکتا ہے۔ جو بہت کم ہوتا ہے ۔ جب بھی کوئی رکن پوائنٹ آف آرڈر اٹھاتا ہے ۔ اسپیکر کو رولنک دینی پڑتی ہے ۔ اگرچہ کسی معاملے پر مختلف روایات ہیں ۔ اسپیکر کو نئی رولنگ کا استحقاق حاصل ہے، اسپیکر رولنگ دینے میں غیر جانبدار ہے ، اسپیکر یقینی بناتا ہے کہ مباحثے سلیقے سے ہوتے ہیں۔ قراردادیں اور سوالات ایوان میں رکھتے ہیں اور فیصلے کا اعلان کرتا ہے، اسپیکر طہ کرتا ہے کہ کونسے سوالات کو نوعیت دی جائے اور فقط وہ ہی وزراء سے پوچھے جائیں۔ اسپیکر کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ ایوان میں کونسی ترامیم پیش کی جائیں۔ اسپیکر کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ ایوان میں کونسی ترامیم پیش کی جائیں اور جب وہ مطمعئن ہوں